Home Urdu Quotes Allama Iqbal Quotes Best 30+ Allama Iqbal Islamic Poetry

Best 30+ Allama Iqbal Islamic Poetry

31
0

Best 30+ Allama Iqbal Islamic Poetry

Dive into the rich tapestry of Allama Iqbal Islamic poetry, where each verse is a profound journey into the depths of spirituality, wisdom, and human experience. Renowned as one of the greatest poets and thinkers of the Muslim world, Allama Iqbal’s works resonate with timeless themes of faith, self-discovery, and the pursuit of truth.

Through his eloquent verses, Iqbal weaves together the intricate threads of Islamic philosophy, Sufi mysticism, and cultural heritage, offering readers a window into the soul of Islam. His poetry transcends boundaries of time and space, speaking to the universal human condition and the eternal quest for meaning.

From poignant reflections on the divine to impassioned calls for social justice, Allama Iqbal’s poetry serves as a beacon of inspiration for generations. With each line, he invites readers to contemplate the mysteries of existence, to ponder the complexities of the human spirit, and to strive for a deeper understanding of both the seen and the unseen.

Whether exploring the beauty of nature, the intricacies of the human psyche, or the dynamics of society, Allama Iqbal’s Islamic poetry remains as relevant and resonant today as it was when first penned. It continues to stir hearts, awaken minds, and ignite the flames of spiritual awakening, reminding us of the timeless power of poetry to illuminate the path to enlightenment.

 Allama Iqbal Islamic Poetry
Allama Iqbal Islamic Poetry

کیوں منتیں مانگتا ہے اوروں کے دربار سے اقبالؔ
وہ کون سا کام ہے جو ہو تا نہیں تیرے خدا سے۔

اذان تو ہو تی ہے اب مگر نہیں کو ئی موذن بلال سا
سر بسجدہ تو ہیں مومن مگر نہیں کو ئی زہراؓ کے لال سا۔

بات سجدوں کی نہیں خلوصِ دل کی ہو تی ہے اقبالؔ
ہر میخا نے میں شرابی اور ہر مسجد میں نمازی نہیں ہو تا۔

Allama Iqbal Islamic Poetry

یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو تم
یوں تو سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو تم

دلوں کی عمارتوں میں کہیں بندگی نہیں
پتھروں کی مسجدوں میں خدا دھونڈتے ہیں لوگ۔

صبح کو باغ میں شبنم پڑتی ہے فقط اس لیے
کہ پتّا پتّا کرے تیرا ذکر با وضوہو کر۔

حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نو ری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہو تا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔

 

میرے بچپن کے دن بھی کیا خو ب تھے اقبالؔ
بے نما زی بھی تھا اور بے گناہ بھی

قوتِ وشق سے ہر پست کو با لا کردے
دہر میں اسمِ محمدﷺ اجالا کردے۔

Allama Iqbal Islamic Poetry

علم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ پن
عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمینِ وظن۔

کا فر ہے تو شمشیر پے کرتا بھروسہ
مو من ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔

ہنسی آ تی ہے مجھے حسرتِ انسان پر
گناہ کرتا ہے خود،لعنت بھیجتا ہے شیطان پر

سجدہ خالق کو بھی،ابلیس سے یا رانہ بھی
حشر میں کس سے محبت کا صلہ مانگے گا؟

داغِ سجود اگر تیری پیشانی پر ہوا تو کیا
کو ئی ایسا سجدہ بھی کر کہ زمین پر نشاں ر ہیں۔

صدقِ خلیل بھی ہے عشق ،صبرِ حسین بھی ہے عشق
معرکہ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق۔

کرب یوں تو خدا سے مانگنے جنت گیا تھا میں

و بلا کو دیکھ کر نیت بدل گئی۔

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضاکیا خو دی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےہے۔

کہ اِبلیس بھی تجھے دیک

ھے تو مسلمان ہو جائے۔

Allama Iqbal Islamic Poetry

دُعا تو دل سے مانگی جاتی ہے،زبان سے نہیں
اے اقبال
قبول تو اس کی بھی ہوتی ہے جس کی زبان نہیں ہوتی۔

کافر کی یہ پہچان ہے کہ آفاق میں گُم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گُم اُس میں ہے آفاق

سجدوں کی عوض فردوس ملے یہ بات مجھے منظور نہیں
بے لوث عبادت کرتا ہوں بندہ ہوں تیرا مزدور نہیں

 

 

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here